سرور لولاک

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - حدیث قدسی، "لولاک لما خلقت الافلاک" کی طرف تلمیح ہے، مراد: وجہ تخلیق عالم، سرور عالم۔  محبت میں نسیم دہلوی کو غلام سرور لولاک پایا      ( ١٨٦٥ء، نسیم دہلوی، دیوان، ٩٤ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'سرور' کے بعد کسرہ اضافت لگا کر عربی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'لولاک' لگانے سے مرکب بنا اسم صفت 'لولاک' میں حرف شرط 'لو' اور حرف نفی 'لا' اور ضمیر مخاطب 'ک' ملنے سے 'لولاک' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٨٦٥ء سے "دیوان نسیم دہلوی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - حدیث قدسی، "لولاک لما خلقت الافلاک" کی طرف تلمیح ہے، مراد: وجہ تخلیق عالم، سرور عالم۔  محبت میں نسیم دہلوی کو غلام سرور لولاک پایا      ( ١٨٦٥ء، نسیم دہلوی، دیوان، ٩٤ )

جنس: مذکر